حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم
استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم کی ولادت ۱۲ نومبر ۱۹۶۴ء، مطابق ۱۳۸۴ھ، صوبۂ بہار کے ضلع گیا (موجودہ ضلع ارول) کی بستی ہردے چک میں ہوئی۔
آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا عادل صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی نگرانی میں مدرسہ خیرالعلوم، چندوا، ضلع لاتیہار، جھارکھنڈ اور مدرسہ فیض الرشید، سِٹی، ضلع رانچی میں حاصل کی۔ بعد ازاں حفظِ قرآن کریم انوار العلوم، گیا میں مکمل کیا اور وہیں فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
اعلیٰ تعلیم کے شوق میں آپ تنہا اتر پردیش تشریف لے گئے۔ پہلے ریڑھی تاج پورہ پہنچے، لیکن داخلہ نہ ملنے پر روڑکی چلے گئے۔ وہاں گلستان، بوستان، یوسف زلیخا اور سکندرِ زمانہ جیسی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ خادم العلوم، باغوں والی، مظفر نگر میں داخلہ لیا اور چہارم درجے تک تعلیم حاصل کی۔
پھر بعد اس کے دارالعلوم دیوبند تشریف لائے۔ اس سال داخلے کی محدود اجازت کے باعث داخلہ نہ ہوسکا، لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور بغیر داخلے کے درجۂ ششم کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔
اگلے سال درجۂ ہفتم کے داخلے کا امتحان دیا، مگر کامیاب طلبہ کی فہرست میں آپ کا نام نہیں آیا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد دفترِ تعلیمات میں بلایا گیا۔ ان دنوں حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ناظم تھے۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ آپ کے امتحانی پرچوں کا معیار اتنا بلند تھا کہ ممتحنین کو شبہ ہوا کہ یہ کسی طالب علم نے لکھے ہیں یا کسی مدرس نے۔ چنانچہ دوبارہ امتحان لیا گیا۔ آپ کی قابلیت اور مستعدی سے مطمئن ہوکر داخلے کی کارروائی مکمل کی گئی اور آپ کا داخلہ ہوگیا۔
آپ نے دارالعلوم دیوبند میں دورۂ حدیث شریف اور تکمیلِ افتاء کی تعلیم مکمل کی۔ آپ کے اساتذۂ حدیث میں درج ذیل حضرات شامل ہیں:
۱۔ صحیح بخاری، جلد اول: حضرت مولانا نصیر احمد خان بلند شہری رحمۃ اللہ علیہ۔
۲۔ صحیح بخاری، جلد دوم: حضرت مولانا عبد الحق اعظمی رحمۃ اللہ علیہ۔
۳۔ جامع ترمذی، جلد اول: حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ۔
۴۔ صحیح مسلم، جلد اول: حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم۔
۵۔ صحیح مسلم، جلد دوم: حضرت مولانا قمر الدین احمد گورکھپوری دامت برکاتہم۔
۶۔ سنن ابی داؤد، جلد دوم: حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی دامت برکاتہم۔
۷۔ سنن ابن ماجہ: حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری رحمۃ اللہ علیہ۔
۸۔ شمائل ترمذی: حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی دامت برکاتہم۔
اس کے علاوہ دیگر کتب بھی ممتاز اساتذۂ کرام سے پڑھیں۔
۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۴ء میں فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند میں دو سال تک معاون مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ کے مکان پر قیام کرکے آپ کے صاحب زادگان کو تعلیم دی۔
۱۹۸۸ء میں آپ کا باقاعدہ تقرر دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس ہوا۔ اس وقت سے آپ مسلسل تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہزاروں طلبہ آپ سے استفادہ کرچکے ہیں۔
آپ کے موجودہ اسباق میں سنن ابی داؤد شریف، جلد دوم، مشکاة المصابیح، جلد دوم، حجۃ اللہ البالغہ اور شعبۂ مطالعہ شامی کے اسباق شامل ہیں۔
۱۴۴۰ھ مطابق ۲۰۱۹ء میں دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ نے آپ کو مجلسِ تعلیمی کا ناظم منتخب کیا۔ آپ تین سال اس ذمہ داری پر فائز رہے اور بعض عوارض کی وجہ سے ۱۴۴۴ھ مطابق ۲۰۲۲ء میں اس سے سبک دوش ہوگئے۔
آپ کی علمی خدمات میں درج ذیل کام شامل ہیں:
۱۔ تکمیل العوامل کی ترتیب۔
۲۔ مفتاح التہذیب کی ترتیب۔
۳۔ رسالہ حیاۃ النبی۔
۴۔ مختلف علمی سیمیناروں میں پیش کیے گئے فقہی مقالات۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے اور ان کے علمی و تدریسی فیوض کو تادیر جاری رکھے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں