مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی علمی و تعمیری خدمات؛ دارالعلوم دیوبند کی ترقی میں نمایاں کردار
شیخ الہند لائبریری کی تعمیر سے قدیم علمی مخطوطات کے تحفظ تک، علم و تاریخ کی خدمت کا قابلِ قدر سفر
دیوبند: دارالعلوم دیوبند کی علمی، تعلیمی اور تعمیری ترقی میں حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ آپ نے تدریس، انتظامی امور اور تعمیرات کے شعبے میں طویل عرصے تک اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس عظیم علمی ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کا ایک نمایاں کارنامہ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تعمیرات کی نگرانی ہے، جس کی ذمہ داری آپ نے 1987ء میں سنبھالی۔ آپ کی نگرانی میں جامع رشید مسجد، شیخ الہند لائبریری اور دیگر اہم تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں خدمات انجام دی گئیں۔
قدیم کتابوں اور نادر مخطوطات کا تحفظ
کسی بھی علمی ادارے کی اصل دولت اس کا علمی سرمایہ ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی لائبریری میں موجود قدیم کتابیں اور نادر مخطوطات اسلامی تاریخ، علومِ دینیہ اور تحقیق کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض قیمتی مخطوطات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا، تو ان کی بحالی اور حفاظت کی ضرورت محسوس کی گئی۔
مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب نے اس علمی ورثے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قدیم مخطوطات کی مرمت اور تحفظ کے کام میں اہم رہنمائی فراہم کی۔ اس سلسلے میں ماہرین کی مدد سے مخطوطات کی بحالی کی کوششیں کی گئیں، تاکہ اکابرِ امت کا علمی سرمایہ محفوظ رہے اور آنے والی نسلیں بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔
یہ کام محض پرانی کتابوں کی حفاظت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی علمی تاریخ، بزرگوں کی تحقیق اور صدیوں پر محیط علمی روایت کو زندہ رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
تدریس اور انتظامی خدمات کا طویل سفر
مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب 10 مارچ 1953ء کو جدوَل، آرکاٹ، تمل ناڈو میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مختلف دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے بھی تعلیم حاصل کی اور 1973ء میں تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں آپ دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے اور تدریس کے ساتھ ادارے کے انتظامی و تعمیری امور میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ 1997ء سے دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم کے منصب پر فائز ہیں۔
مولانا صاحب کی خدمات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ کسی عظیم دینی ادارے کی ترقی صرف درس و تدریس تک محدود نہیں ہوتی؛ اس کے لیے مضبوط تعلیمی ڈھانچے، بہتر انتظام، تاریخی ورثے کی حفاظت اور علمی سرمایہ کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی فکر بھی ضروری ہے۔
علمی ورثے کی حفاظت، مستقبل کی امانت
دارالعلوم دیوبند کی ترقی میں مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی تعمیری اور علمی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ بالخصوص قدیم مخطوطات اور تاریخی کتابوں کے تحفظ کی کوششیں اس بات کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں کہ اپنے اسلاف کے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنا دراصل اپنی تاریخ اور علمی شناخت کو محفوظ رکھنا ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور دارالعلوم دیوبند کو علم و تحقیق کا روشن مرکز بنائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں