اشاعتیں

سوانح مولانا محبوب فروغ سمستی پوری

تصویر
حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۷ھ، مطابق ۳ مئی ۱۹۷۷ء، بروز منگل، دن کے ایک بجے بہار کے مشہور ضلع سمستی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مولانا محفوظ الرحمن صاحب ہے۔ آپ کا گھرانہ شروع ہی سے علمی تھا اور سب کا تعلق مسلکِ دیوبند سے تھا۔ اسی لیے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم ہی کی نگرانی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ ۱۳ سال کی عمر میں آپ نے دینی تعلیم کی طرف توجہ کی۔ چنانچہ مدرسہ فیض العلوم، حسن پور، سمستی پور میں فارسی اول میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں فارسی کی تعلیم کئی سالوں پر مشتمل ہوتی تھی، اس لیے ۱۹۸۹ء میں مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا دربھنگہ میں فارسی دوم کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۹۰ء میں مدرسہ شیخ الاسلام، شیخوپور، اعظم گڑھ، یوپی میں عربی اول کی تعلیم حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کی سرپرستی میں حاصل کی۔ ۱۹۹۲ء میں عربی دوم سے عربی پنجم تک، مختصر المعانی تک، دارالعلوم حیدرآباد میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ کے مشہور اس...

سوانح مفتی خورشید انور گیاوی

تصویر
حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم کی ولادت ۱۲ نومبر ۱۹۶۴ء، مطابق ۱۳۸۴ھ، صوبۂ بہار کے ضلع گیا (موجودہ ضلع ارول) کی بستی ہردے چک میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا عادل صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی نگرانی میں مدرسہ خیرالعلوم، چندوا، ضلع لاتیہار، جھارکھنڈ اور مدرسہ فیض الرشید، سِٹی، ضلع رانچی میں حاصل کی۔ بعد ازاں حفظِ قرآن کریم انوار العلوم، گیا میں مکمل کیا اور وہیں فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق میں آپ تنہا اتر پردیش تشریف لے گئے۔ پہلے ریڑھی تاج پورہ پہنچے، لیکن داخلہ نہ ملنے پر روڑکی چلے گئے۔ وہاں گلستان، بوستان، یوسف زلیخا اور سکندرِ زمانہ جیسی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ خادم العلوم، باغوں والی، مظفر نگر میں داخلہ لیا اور چہارم درجے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر بعد اس کے دارالعلوم دیوبند تشریف لائے۔ اس سال داخلے کی محدود اجازت کے باعث داخلہ نہ ہوسکا، لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور بغیر داخلے کے درجۂ ششم کی...

مختصر سوانح مولانا عبد الخالق مدراسی

تصویر
مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی علمی و تعمیری خدمات؛ دارالعلوم دیوبند کی ترقی میں نمایاں کردار شیخ الہند لائبریری کی تعمیر سے قدیم علمی مخطوطات کے تحفظ تک، علم و تاریخ کی خدمت کا قابلِ قدر سفر دیوبند: دارالعلوم دیوبند کی علمی، تعلیمی اور تعمیری ترقی میں حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ آپ نے تدریس، انتظامی امور اور تعمیرات کے شعبے میں طویل عرصے تک اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس عظیم علمی ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کا ایک نمایاں کارنامہ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تعمیرات کی نگرانی ہے، جس کی ذمہ داری آپ نے 1987ء میں سنبھالی۔ آپ کی نگرانی میں جامع رشید مسجد، شیخ الہند لائبریری اور دیگر اہم تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں خدمات انجام دی گئیں۔ قدیم کتابوں اور نادر مخطوطات کا تحفظ کسی بھی علمی ادارے کی اصل دولت اس کا علمی سرمایہ ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی لائبریری میں موجود قدیم کتابیں اور نادر مخطوطات اسلامی تاریخ، علومِ دینیہ اور تحقیق کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض قیمتی مخطوطات کو نق...

حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی ہمارے عہد کی عظیم شخصیت

تصویر
حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی : ہمارے عہد کی عظیم شخصیت : از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری سابق استاذ دارالعلوم دیوبند : سفیرِ تصوف، تحریکِ ارشاد، الہامِ اصلاح، واعظِ روح، خطیبِ قلب، دوائے دل، بہارِ سلوک، انجمنِ تزکیہ، موسوعۂ معرفت، انقلابِ باطن، لسانِ صوفیا، قلمِ حقائق، کاشفِ اسرار، کاتبِ انوار، شارحِ دقائق، مفسرِ رموز، فاتحِ عقبات، دست گیر راہ، مشکِ عرفان، طلسمِ تقریر، سحرِ بیان، حضرت پیر فقیر ذوالفقار نقشبندی آج رحمہ اللہ ہو گئے۔ غالبا دو ہزار ایک کی بات ہے، راقم دارالافتا کا طالب علم تھا، ایک روز درس گاہ میں ایک کتاب نظر آئی، کتاب تو میں کیا ہی دیکھتا! مصنف کا نام مقناطیس بن گیا، پیشانی پر مرقوم "پیر فقیر" بالکل غیر روایتی معلوم ہوا تھا، فہرست نارمل جا رہی تھی؛ یہاں تک کہ ایک عنوان گلے پڑ گیا، اس کے الفاظ یہ تھے: "ہڑتال فقط جانچ پڑتال"، یہ سرخی بد نگاہوں کا سچا آئینہ تھی، میں اس کی ندرت کا شکار ہوا، پڑھنے گیا تو صاحبِ کتاب نے ایک نیا قاری دریافت کر لیا تھا، مجھے یہاں بلا کی ذہانت ملی، انھوں نے اصلاح کے ایک نکتے کو مزے دار، زندہ، ہم عصر اور تازہ ب...

ای۔ دارالعلوم الاسلامیۃ دیوبند، عہدِ جدید کی معصوم کلیوں کے لئے محفوظ علمی گلشن

تصویر
✍️: مفتی شکیل منصور القاسمی  بنات کی اقامتی تعلیم گاہوں کے بلاشبہ اپنے فوائد و ثمرات ہیں۔ وہاں کا خصوصی ماحول، اوقات کی پابندی اور ہم جماعتوں کی رفاقت علمی ذوق کو پروان چڑھاتی ہے؛ مگر سچ یہ ہے کہ راقم الحروف کو نصاب و نظام کے مکمل مامون ومحفوظ ہونے پہ ہمیشہ تردد دامن گیر رہا اور مکمل قلبی انشراح نصیب نہ ہوا،کچھ اس لئے بھی کہ عصری ماحول میں پرورش پانے والی طالبات کو خالص اقامتی طرز پر مقید کردینا نہ ہمیشہ سہل ہے اور نہ ہی ہر گھرانے کے لئے موزوں تر ۔ اس کے بالمقابل، عصرِ حاضر کی عصری درسگاہوں کی طالبات کو اسلامی افکار و نظریات اور علومِ شرعیہ سے جوڑنا بھی نہایت اہم اور ناگزیر تقاضا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور لادینی عہد میں جب کہ ہر سمت نت نئے فتنوں اور تہذیبی یلغار کی بارش ہے، بچیوں کے لئے ایک ایسا محفوظ علمی نظام قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ شکر ہے کہ اہلِ علم اور ماہرینِ تعلیم اس میدان میں فکر و جستجو کے ساتھ کوشاں ہیں اور اپنے اپنے طور پر نہایت مفید و کامیاب تجربات ونتائج پیش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قافلے کو مزید وسعت و استحکام عطا فرمائے۔ انہی روشن کوششوں ...

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه

تصویر
اورنگ زیب عالمگیرؒ  سچائی اور پروپیگنڈه قسط-1 🖋 فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کا سنہرا دور مغلوں کی حکمرانی کا دور تھا، آج ملک میں جتنی یاد گار عمارتیں ہیں، جن کو دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں، اور ان کی بدولت کثیر زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے، وہ زیادہ تر مغلوں کی ہی تعمیر کردہ ہے، دنیا کے سات عجائب میں سے ایک ’’ تاج محل‘‘ ہندوستان کی سرزمین میں واقع ہے، جو بجا طور پر ہمارے لئے باعث افتخار ہے، یہ مغلوں ہی کی دین ہے ، مگر افسوس کہ انسان کی فطرت میں احسان فراموشی ہے، یہ احسان فراموشی اس وقت بہت تکلیف دہ ہوجاتی ہے، جب پڑھے لکھے ، اور دانشور کہلائے جانے والے لوگ اس کے مرتکب ہوں، اس کی بدترین مثال یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو نیا نصاب تعلیم بن رہا ہے، اول تو اس میں تاریخ کے مضمون سے پورے مغل دور کو نکال دیا گیا ہے، مزید ستم یہ ہے کہ بابر کے خلاف تو لکھا ہی گیاہے، اکبراور اورنگ زیب، جس نے اس ملک کو سب سے زیادہ وسعت عطا کی، اس پر بھی تہمت باندھی گئی ہے، اور کسی ٹھوس تاریخی ثبوت کے بغیر صرف پروپیگنڈے کی...

حضرت علی میاں ندویؒ دارالعلوم دیوبند کے طالب علم بھی تھے

تصویر
حضرت مولانا علی میاں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالعلی صاحب (ناظم ندوة العلماء) کے حکم سے ۱۳۵۱ھ میں دیوبند تشریف لائے۔اور حضرت مدنی کے حلقہٴ درس میں بیٹھ کر چار ماہ بخاری و ترمذی پڑھی۔ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب سے فقہ اور قاری اصغر علی صاحب سے روایت حفص کے مطابق تجوید کا درس لیا۔ مولانا ایک موقع پر اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں: ”میں اس سعادت و توفیق پر اللہ تعالی کے سامنے سجدہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے دارالعلوم دیوبند، حضرت شیخ الاسلام مدنی کی زندگی میں طالب علمانہ اور نیاز مندانہ حاضری اور ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ میں اس کو اپنے لیے سرمایہٴ سعادت سمجھتا ہوں اور اس سے اللہ تعالی کے یہاں بڑی امیدیں رکھتا ہوں۔میں اس بات پر جتنا فخر کروں کم ہے۔“ (۱۰) پاجا سراغ ِ زندگی، ص ۱۲۶) حضرت مولا نا نے اکابر دیوبند سے کیا حاصل کیا؟ حضرت مولانا کے علم و ادب کی تاریخ تو سراسر ندوة العلماء سے وابستہ ہے۔ لیکن آپ کی روحانی ، فکری، اور اخلاقی تاریخ کا سہرا اکابر دیوبند کے سر ہے۔ اسی لیے یہ بات پورے وثوق اور اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ حضرت مولانا کی تاریخ اکابر...