اشاعتیں

اکتوبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سوانح مولانا محبوب فروغ سمستی پوری

تصویر
حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۷ھ، مطابق ۳ مئی ۱۹۷۷ء، بروز منگل، دن کے ایک بجے بہار کے مشہور ضلع سمستی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مولانا محفوظ الرحمن صاحب ہے۔ آپ کا گھرانہ شروع ہی سے علمی تھا اور سب کا تعلق مسلکِ دیوبند سے تھا۔ اسی لیے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم ہی کی نگرانی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ ۱۳ سال کی عمر میں آپ نے دینی تعلیم کی طرف توجہ کی۔ چنانچہ مدرسہ فیض العلوم، حسن پور، سمستی پور میں فارسی اول میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں فارسی کی تعلیم کئی سالوں پر مشتمل ہوتی تھی، اس لیے ۱۹۸۹ء میں مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا دربھنگہ میں فارسی دوم کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۹۰ء میں مدرسہ شیخ الاسلام، شیخوپور، اعظم گڑھ، یوپی میں عربی اول کی تعلیم حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کی سرپرستی میں حاصل کی۔ ۱۹۹۲ء میں عربی دوم سے عربی پنجم تک، مختصر المعانی تک، دارالعلوم حیدرآباد میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ کے مشہور اس...

سوانح مولانا محبوب فروغ سمستی پوری

تصویر
حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محبوب فروغ احمد صاحب سمستی پوری دامت برکاتہم ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۷ھ، مطابق ۳ مئی ۱۹۷۷ء، بروز منگل، دن کے ایک بجے بہار کے مشہور ضلع سمستی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مولانا محفوظ الرحمن صاحب ہے۔ آپ کا گھرانہ شروع ہی سے علمی تھا اور سب کا تعلق مسلکِ دیوبند سے تھا۔ اسی لیے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم ہی کی نگرانی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ ۱۳ سال کی عمر میں آپ نے دینی تعلیم کی طرف توجہ کی۔ چنانچہ مدرسہ فیض العلوم، حسن پور، سمستی پور میں فارسی اول میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں فارسی کی تعلیم کئی سالوں پر مشتمل ہوتی تھی، اس لیے ۱۹۸۹ء میں مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا دربھنگہ میں فارسی دوم کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۹۰ء میں مدرسہ شیخ الاسلام، شیخوپور، اعظم گڑھ، یوپی میں عربی اول کی تعلیم حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کی سرپرستی میں حاصل کی۔ ۱۹۹۲ء میں عربی دوم سے عربی پنجم تک، مختصر المعانی تک، دارالعلوم حیدرآباد میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ کے مشہور اس...

سوانح مفتی خورشید انور گیاوی

تصویر
حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم استاذِ حدیث، دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی خورشید انور صاحب گیاوی دامت برکاتہم کی ولادت ۱۲ نومبر ۱۹۶۴ء، مطابق ۱۳۸۴ھ، صوبۂ بہار کے ضلع گیا (موجودہ ضلع ارول) کی بستی ہردے چک میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا عادل صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی نگرانی میں مدرسہ خیرالعلوم، چندوا، ضلع لاتیہار، جھارکھنڈ اور مدرسہ فیض الرشید، سِٹی، ضلع رانچی میں حاصل کی۔ بعد ازاں حفظِ قرآن کریم انوار العلوم، گیا میں مکمل کیا اور وہیں فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق میں آپ تنہا اتر پردیش تشریف لے گئے۔ پہلے ریڑھی تاج پورہ پہنچے، لیکن داخلہ نہ ملنے پر روڑکی چلے گئے۔ وہاں گلستان، بوستان، یوسف زلیخا اور سکندرِ زمانہ جیسی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ خادم العلوم، باغوں والی، مظفر نگر میں داخلہ لیا اور چہارم درجے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر بعد اس کے دارالعلوم دیوبند تشریف لائے۔ اس سال داخلے کی محدود اجازت کے باعث داخلہ نہ ہوسکا، لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور بغیر داخلے کے درجۂ ششم کی...

مختصر سوانح مولانا عبد الخالق مدراسی

تصویر
مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی علمی و تعمیری خدمات؛ دارالعلوم دیوبند کی ترقی میں نمایاں کردار شیخ الہند لائبریری کی تعمیر سے قدیم علمی مخطوطات کے تحفظ تک، علم و تاریخ کی خدمت کا قابلِ قدر سفر دیوبند: دارالعلوم دیوبند کی علمی، تعلیمی اور تعمیری ترقی میں حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ آپ نے تدریس، انتظامی امور اور تعمیرات کے شعبے میں طویل عرصے تک اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس عظیم علمی ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کا ایک نمایاں کارنامہ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تعمیرات کی نگرانی ہے، جس کی ذمہ داری آپ نے 1987ء میں سنبھالی۔ آپ کی نگرانی میں جامع رشید مسجد، شیخ الہند لائبریری اور دیگر اہم تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں خدمات انجام دی گئیں۔ قدیم کتابوں اور نادر مخطوطات کا تحفظ کسی بھی علمی ادارے کی اصل دولت اس کا علمی سرمایہ ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی لائبریری میں موجود قدیم کتابیں اور نادر مخطوطات اسلامی تاریخ، علومِ دینیہ اور تحقیق کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض قیمتی مخطوطات کو نق...